روزنامچہ حدیث
  • با عظمت حاکم وہ ہے جس پر خواہشات حاکم نہ ہوں حضرت علی ع   الغرر والدرر
 
 

نمائندہ ولی امر مسلمین عراق آیت اللہ السید مجتبیٰ حسینی کا اِحیاء کردارِ حسینی کنونشن کے لئے پیغام


12/01/2018

بسم الله الرحمن الرحيم

ایام مبارک ربیع الاول ولادت با سعادت منجی بشر پیغبرﷺ اور اسیطرح  امام صادق ؑکی ولادت کے ایام ہیں،لہٰذا تمام مسلمانان جہان خصوصا  اہل البیت کے محبوں کی خدمت میں تبریک و تہنیت پیش کرتا ہوں.

جیسا کہ آپکا پروگرام سیرت پیغبرﷺ کو اجاگر رکہنے کے عنوان سے اور اسیطرح سیرت امام صادق ؑو فقہ امام صادقؑ کو زندہ رکہنے کے عنوان سےہے،خداوند عالم نے ولادت امام صادقؑ کو پیغبرﷺکی ولادت کے ساتھرکھاہے کیونکہ پیغبر خداوند کی جانب سے رسالت اور دین کو لائے اور آپ حضرت نے فرمایا کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں جنت کے قریب  کرے سوائے اس کے کہ اس چیز کا مینے تمہیں امر کیا اور  کوئی ایسی چیز نہیں جو تمہیں جہنم سے دور کرے سوائے اسکے اُس سے تمہیں منع کیا،تو پیغبر رسالت الہی کو لائے لیکن بعد از پیغبرﷺ اس رسالت الہیہ میں بنوامیہ و بنوعباس کے حکمرانوں کے توسط سے تحریف و انحراف کیاگیا اور یہ رسالت الہی ملوکیت اور بادشاہت میں تبدیل کی گئی،لہذا  ائمہ اطہار میں سے دو امام امام باقر ؑو امام صادق ؑ کا رسالت الہی کو  انحرافات سے خالص اوراسی طرح جس طرح  یہ رسالت پیغبرﷺ پر نازل ہوئی امت تک پہنچانے میں اہم کردار رہاہے اسی طرح مسائل شرعی و احکامات اسلامی کو امت تک پہنچانے میں ان دو اماموں کا مہم کردار رہاہے۔ لہٰذا تمام مسلمانان جہان خود کو امام باقرؑ و امام صادقؑ کا مرہون منت مانتے ہیں،حتیٰ کہ برادران اہل سنت یہ اقرار کرتے ہیں کہ اہل سنت کے چار بڑے امام(امام حنفی، حنبلی،مالکی وشافعی)مستقیما یا مع الواسطہ امام صادق ؑکے شاگرد ہیں انہوں نے امام ؑسے درس حاصل کیا امام ؑکی شاگردی میں رہے یا امام صادق ؑکے شاگردوں کے شاگرد رہے ہیں!

لہٰذا آپکا یہ سالانہ کنونشنجو احیائے عرفان اور احیائے علوم اہلبیت اطہار و سیرت حسینی کے عنوان سےہے یہ کنونشن بہت مہم ہے کیونکہ اتفاقا یہ واقعہ اربعین و ایام محرم و صفر کے بعد ماہ ربیع آتاہے اور یہ مہینہ خوشی کا مہینہ ہے لیکن اگر سیرت پیغمبر ﷺو امام صادق ؑکے ساتھ اگر اس ماہ میں سیرت امام حسین ؑ کوبھی اجاگر کیا جائے چونکہ حکما کا مشہور قول ہے کہ الاسلام محمدیالحدوث و حسینی البقاءیعنی اسلام کو لانے والی ذات پیغبر اکرم کی ہے لیکن حسینؑ نے اپنے قیام اور اپنے پاکیزہ خون کے ذریعے  اسلام کو بقا دی  دشمنان اسلام کو اسلام سے جدا کیا جو باعث بنا کہ دشمنان اسلام کا فعل اور عمل اسلام کے عنوان سے اسلام میں ثبت نہ ہو تاکہ لوگ جانلیں کہ یہ خالص اسلام ہے وہی اسلام  جو پیغبرﷺ اللہ کی جانب سے لائے وہی اسلام جو لوگوں کو عدالت کے قائم کرنے کا حکم دیتا ہے جو ظلم اور طاغوتی قوتوں کا سخت مخالف ہے اور امام حسینؑ پرچمدار ِحُریت و آزادی اور اسی طرح علمدار اسلام خالصہیں،اور ہم اگر چاہتے ہیں کہ سیرت امام حسین ؑ کو احیا کریں تو ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کے سامنے اس اسلام کا تعارف کرائیں جو اسلام عزت، سربلندی، پر افتخار ،شہامت و شجاعت سے سرشار ہے۔لہذا امام حسین ؑ کا سانحہ  امام کا قیام جس قدر دنیا میں ترویج ہوگا اتنا ہی اسلام اخلاص کی طرف جائیگا۔

ہم خوشی کا احساس کرتے ہیں کہ انقلاب جمہوری اسلامی ایران کے بعد خصوصا آخرکے چند سالوں میں قیام امام حسینؑواہداف عالی امام حسین ؑکے ذریعے لوگ اسلام سے زیادہ آشنا و اسلام کے قریب ہوئے ہیں!ہمیں احساس ہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے بعض مناطق میں باغیور جوان ہیں جن میں شعور حسینی عشق وہیجان حسینی و پیغبری انکے وجود میں موجود ہے۔ حسینی و محمدی نعرہ ان کے ذریعے بلند ہوتاہے اور یہ نوجوان اسلام سے مخلص ہیں اس لئے ان ملکوں کے اہل فکر و مخیر حضرات پر لازم ہے کہ وہ ان عاشقان حسینی کی علمی، مادی، معنوی اورہرطرح کی معاونت فرمائیں اور ان کی حوصلہ افزائی فرمائیں  تاکہ زیادہ سے زیادہ ترویج مقصد حسینی اور احیائے عزائے حسینی احیائے سیرت نبوی، علوی اور حسینی ہوسکے۔

البتہ معارف عالیہ امام صادق علیہ السلام اور وہ علوم جو امام صادق ؑو امام باقرؑسے (قلت زمان یا کسی بھی  شرعی عذر یا مصلحت کی وجہ سے)باقی رہگئے وہ ہمارے مدارس دانشگاہوں مساجد کے ذریعے سے علما کے زیر سایہ بیان ہوں اور تدریس ہوں اور انشااللہ علوم اہلبیت اطہار ؑکے فیوضات کا یہ سلسلہ جاری و ساری رہے تاکہ امت محمدیہ میں سے جو علوم اسلامی کے تشنہ ہیں وہ فیوضات الہیہ کے اس عمیق بے پایان سمندر سے سیراب ہوتے رہیں۔

میں تقدیم و تشکر کرتاہوں ان افراد کا (اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان )جنہوں نے ان مراسم میں ہماری طرف مراجعہ کیا میں دعا کرتا ہوں کی اس راہ میں خداوند آپ کو بیشتر تشویق و تسدید مرحمت فرمائے اور امید کرتاہوں کہ آپ کی یہ مخلصانہ اور بڑی کاوشیں اور فعالیات زمینہ و مقدمہ ساز ظہور پرفروغ امام زمانہ ؑہوں اورہم محبان اہل بیت اطہار  کو خداوند موحدین اور زمینہ ساز ظہور امام زمانہ ؑمیں سے قرار دے اور وہ راستہ جو ہمارے بڑوں خصوصا امام خمینی  رضوان اللہ تعالیٰ نے آخری صدی میں اختیار کیا جو تمام عالم اسلام کے لئے باعث عزت و افتخار بنا،اور آپکے جانشین امام خامنائی جو انہیں کے راستے پر گامزن ہیں ہمیں بھی اس راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

والسلام