روزنامچہ حدیث
  • با عظمت حاکم وہ ہے جس پر خواہشات حاکم نہ ہوں حضرت علی ع   الغرر والدرر
 
 

خیرات فی سبیل اللہ یا نیاز حسین (ع)؟


12/30/2017

خیرات فی سبیل اللہ یا نیاز حسین (ع)؟

بسمه سبحآنه
خیرات فی سبیل اللہ یا نیاز حسین (ع)؟

ہمارا معاشرہ فرقہ واریت میں اتنا پھنس چکا ہے کہ ہم اپنے فرقے کے علاوہ کسی بھی اور کی بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔ بلکہ اس سے آگے نکل کر دوسرے فرقے کی صحیح بات کو جانتے بوجھتے غلط رخ دیتے ہیں تاکہ اگلے میں عیب ثابت کر سکیں۔
ایسے ہی مسائل میں سے ایک مسئلہ نیاز امام حسین(ع) اور سبیل امام حسین (ع) کا ہے۔ میری معلومات کے مطابق لفظ نیاز سندھی زبان سے لیا گیا ہے اور اس کے معنی عاجزی سے کسی کو کوئی ہدیہ بھیجنا ہے۔ سندھی زبان میں اس عمل کے لیے مکلمل اصطلاح "نذر اللہ و نیاز حسین" ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ ہم یہ کھانا اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں کھلاتے ہیں اور اس کی بارگاہ سے ملنے والا ثواب امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں ہدیہ کرتے ہیں۔ نیاز کے لیے ذبح کیے جانے والے جانور کے لیے بھی یہی نیت ہوتی ہے ۔ ذبح کرتے وقت اللہ کا ہی نام لیا جاتا ہے اور گوشت کھانے کے ساتھ پکاکر اللہ کی راہ میں کھلایا جاتا ہے اور اس کا ثواب امام (ع) کی بارگاہ میں نیاز (یعنی عاجزی کے ساتھ ہدیہ) کیا جاتا ہے۔جب کہا جاتا ہے کہ یہ نیاز حسین ہے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس عمل کا ثواب عاجزی کے ساتھ امام (ع) کو ہدیہ کیا جائے گا۔ اسی طرح سبیل کا معاملہ بھی ہے۔ یہ بھی مکمل اصطلاح "فی سبیل اللہ "ہے۔ یعنی یہ پانی اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں پلایا جاتا ہے اور اس نیکی کا ثواب امام (ع) کو ہدیہ کرتے ہیں۔
اس وضاحت سے معلوم ہوا کہ خیرات اور نیاز دو چیزیں نہیں ہیں۔ دونوں میں چیز اللہ تبارک و تعالی کی راہ میں ہی دی جاتی ہے۔ خیرات میں ثواب انسان اپنے پاس رکھتا ہے۔ جب کی نیاز اور سبیل میں ثواب امام (ع) کو ہدیہ کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ نیک عمل کے بعد کسی کو ثواب ہدیہ کرنے سے عمل کرنے والے کا ثواب ختم نہیں ہوتا ۔ اسے تو ملتا ہی ہے جسے ہدیہ کیا جائے اس کو بھی ملتا ہے۔
ہمیں چاہیے کہ امت کے اندر افہام و تفہیم کا ماحول پیدا کریں تاکہ تکفیر یت کے فتنے سے بچ سکیں۔
والسلام علیکم ورحمه اللہ۔