روزنامچہ حدیث
  • با عظمت حاکم وہ ہے جس پر خواہشات حاکم نہ ہوں حضرت علی ع   الغرر والدرر
 
 

دین شناسی تحریک


02/10/2019


اصغريه علم و عمل تحریک پاکستان ڈویژن دادو کی طرف سے دین شناسی تحریک کے حوالے سے دین شناسی سیمنارز کا انعقاد کیا گیا،جس کے تحت لاڑکانہ سٹی، کے این شاہ، سیتا سٹی اور میہڑ سٹی میں پروگرامز ترتیب دئیے گئے
ان سیمنارز سے تحریک اصغريہ کے چئیرمین استادِ محترم انجنيئر سید حسین موسوی،اصغريه علم و عمل تحریک پاکستان کے میر کارواں برادر محترم محمد عالم ساجدی، اہل سنت کے عالم دین مولانا محمد یاسین اشرفی نے خطاب کیا
مرکزی نائب صدر برادر شهزاد رضا،ڈویژن دادو صدر سید عاشق حسين نقوی،میثم عباس اصغری،ضلع لاڑکانہ مسئول باقر رضا اکبری، برادر امجد علی جعفری، برادر عامر علی، برادر ریاض حسن عباس اپنے خیالات کا اظہار کیا اور اسٹیج سیکرٹری کے فرائض اعجاز حسین نے انجام دئیے...
برادر محترم محمد عالم ساجدی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ انقلاب اسلامی ایران نے استعمار کی تمام سازشوں کو ناکام بنادیا ہے یہ انقلاب کے ثمرات ہیں کہ آج عالم اسلام میں مثالی اتحاد اور ہم آہنگی کی فضا تیزی سے پروان چڑھ رہی ہے... امام راحل امام خمینی نور اللہ مرقدہ نے سوشلزم اور کیپٹلزم نظام کے مدمقابل اسلامی نظام کو پیش کیا اور آج دنیا مغربی جمہوریت کے نام نہاد نظام سے تنگ آ چکی ہے وہ سمجھ چکے ہیں کہ فقط اسلامی نظام حکومت ہی انسان کی تمام دنیوی، اخروی، معاشرتی، روحانی اور خاندانی ضروریات کو پورا کر سکتا ہے....
اہل تسنن کے معروف عالم دین مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ جو بھی اہل بیت رسول سے محبت نہیں رکھتا وہ سچا مسلمان نہیں ہو سکتا کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میں تم میں دو گرانقدر چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں ایک قرآن اور دوسرا میری اہلبیت جو بھی ان دونوں سے متصل اور متمسک رہا وہ نجات اور فلاح پائیگا اور جس نے انکو چھوڑ دیا وہ گمراہ اور برباد ہوگا....
مفکر اسلام سید حسین موسوی نے فرمایا کہ ھمارے ہاں کچھ شر پسند عناصر بیرونی دشمنوں کی سازشوں کے تحت معمولی فقہی اور اعتقادی اختلافات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں انکا ایجنڈہ ہے اسلامی اتحاد کو سبوتاژ کیا جائے....
مگر انکی یہ کوششیں کامیاب نہیں ہو سکتیں کیونکہ آج تمام مسلمان سمجھتے ہیں کہ باہم احترام، بھائی چارے اور محبت سے ہی ایک ملت ترقی کرسکتی ہے.... شیعہ اور سنی میں مشترکہ نقاط بہت زیادہ ہیں اور اختلافی پہلو بہت کم ہیں.
دین شناسی کا مطلب یہ ہے کہ ہم رسول اکرم کی طرف سے مقرر کردہ چینل یعنی رسول اکرم، قرآن مجید اور اہلبیت رسول سے حاصل کریں.....
دین شناسی کا مطلب دینی اصول کو اچھی طرح عقل و منطق کے مطابق سمجھیں ان پر عمل کریں اور دینی اخلاق ہماری معاشرتی اور عملی زندگی میں داخل ہوں اور پابندی سے ان چیزوں کو اپنایا جائے