روزنامچہ حدیث
  • با عظمت حاکم وہ ہے جس پر خواہشات حاکم نہ ہوں حضرت علی ع   الغرر والدرر
 
 

مرحوم و مغفور استاد امداد خلیلی کے چھلم


02/03/2019

اصغریہ علم و عمل تحریک پاکستان اور اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کی جانب سے محرم و مغفور استاد امداد علی خلیلی کے چھلم کے مناسبت سے ان کی مرقد مسجد حاکم شاھ شھدادکوٹ میں منعقد کی گیا، جس میں اجتماعی قرآن خوانی کی گئی جب کہ مرحوم کے ایثال ثواب کے لیئے مجلس عزا کا انعقاد کیا گیا، جس میں خصوصی خطاب مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی نے کیا جب کہ اس موقع پہ تحریک کے مرکزی صدر محمد عالم ساجدی، سید پسند علی رضوی، اصغریہ اسٹوڈنٹس آرگنائیزیشن پاکستان کے مرکزی صدر قمر عباس غدیری مولانا ابوذر ایمانی اور مقامی علمائے کرام ذاکرین نے خطاب کیا،

مجلس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے مفکر اسلام انجنئیر سید حسین موسوی نے کہا کہ

اگر انسان تھوڑا سا غور کرے تو اس کے لئے روز روشن کی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ جب یقیناً ہر انسان کو مرنا ہے اور اللہ کا وعدہ بھی حق ہے کہ جنت اور جہنم اور ثواب و عذاب موجود ہے تو وہ اپنے آپ کو دن رات اسی کوشش میں مصروف رکھے گا کہ اپنی آخرت سنوار لے اور اپنے آپ کو برے اعمال سے بچا کر نیک اعمال کرتے ہوئے موت کے لئے تیار کرے۔ جس آدمی نے اپنے اعمال کو درست کرلیا، یعنی کریم پروردگار کی رحمت سے لبریز بارگاہ میں توبہ کرتا ہوا گناہوں سے بالکل دستبردار ہوگیا، ماضی کے گناہوں پر ندامت اور پشیمانی کو محسوس کیا، آئندہ کے لئے گناہوں سے بچنے کی بھرپور کوشش کی، جو حقوق اللہ اس کے ہیں ان کو ادا کردیا جیسے قضا نمازیں، روزے، حج، زکات و خمس وغیرہ اور حقوق العباد بھی ادا کردیئے، جن کا مقروض تھا ان کو ان کا حق دیدیا اور لمحہ لمحہ کو قیمتی سمجھتے ہوئے تمام فرائض الہی کی ادائیگی میں کوشاں ہوگیا، اپنی زندگی کا رخ باطل سے حق کی طرف اور گمراہی سے ہدایت کی طرف موڑ لیا، دوسروں کے عیب تلاش کرنے کے بجائے، اپنے ہی گریبان جھانکنے لگا، نصیحت کے سامنے ضد، ہٹ دھرمی اور بہانہ تراشی چھوڑ کر حقیقی خیرخواہی اور ہمدرد لوگوں کی نصیحت کو قبول کرنے لگا اور اپنی اصلاح کرنا شروع کردی، گالی گلوچ، فضول باتوں، بے فائدہ گفتگووں، لاحاصل سوچوں کی جگہ، ذکر پروردگار، مخلوقات الہی میں غور و خوض کرنے لگا، حرام ساز و آواز سننے کی جگہ قرآن و احادیث کے عظیم معارف سننے اور علمائے دین کی تقاریر کو سماعت کرنے لگا، نامحرم اور حرام چیزوں سے بالکل نظریں ہٹا لینے کا پختہ ارادہ کرلیا اور ان چیزوں کی طرف دیکھنا شروع کردیا جن کو دیکھنا اللہ تعالی نے مستحب اور باعث ثواب قرار دیا ہے، اور دنیاوی پست خواہشات اور خیالی آرزوں کو ٹھوکر مار کر اللہ تعالی سے آخرت کے بلند رتبوں کی تمنا و آرزو کرنے لگا۔ جب اتنی تبدیلیاں آگئیں تو دنیا کا کھوکھلا پن ظاہر ہوجائے گا، کیونکہ پہلے اپنے آپ کو اس نے اتنی پست چیزوں میں محدود کررکھا تھا جن کی لذت جلد ہی ختم ہوجاتی ہے لیکن اب اصلاح کرنے سے اس کے لئے یہ حقیقت واضح ہونے لگ گئی کہ جب میری خواہشات لامحدود ہیں تو ان لامحدود خواہشات کے لئے لامحدود جہان کی ضرورت ہے جہاں لذات کی انتہا نہ ہونے پائے، خواہش ہیدا ہوتے ہی مطلوب چیز سامنے آجائے، جس جہان کی بادشاہت انسان کے اختیار میں ہو، جب چاہے، جیسا چاہے، جتنا چاہے اور جو چاہے اس کے لئے فوراً فراہم ہوجائے جو آخرت اور جنت ہے۔ ان صحیح افکار کی بنیاد پر انسان دنیا کو زندان سمجھے گا اور موت سے محبت کرے گا کیونکہ اپنے عظیم مقصد تک پہنچنے کا واحد راستہ موت کو ہی جانتا ہے اور اس بلند ہدف کی دستیابی کے لئے اپنے آپ کو آمادہ بھی کرلیا ہے۔

مجلس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی صدر محمد عالم ساجدی نے کہا کہ

انسان کے ارادوں اور کسی چیز سے محبت یا دوری اختیار کرنے کا زیادہ تر معیار ظاہری ہوتا ہے، جبکہ یہ معیار ہمیشہ صحیح نہیں ہوتا کیونکہ یہ کائنات صرف اس دنیا تک محدود نہیں بلکہ دنیا کے ماورا بھی اور جہان ہیں جن کے معیار اور اصول دنیا سے الگ ہیں۔ انسان کا ان جہانوں سے رابطہ رکھنا اور معلومات کا مل جانا آسان اور معمولی کام نہیں بلکہ دوسرے جہانوں کی معلومات حاصل کرنے کے لئے اہل بیت (علیہ السلام) کے فرامین پر غور کرنا ضروری ہے، ورنہ انسان ایسے فیصلے کرے گا جن کا نتیجہ توقع کے خلاف ہوگا، جن میں سے ایک موت ہے، انسان موت سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور اسے پسند نہیں کرتا جبکہ حضرت امام محمد تقی (علیہ السلام) کی نظر میں موت ایسی شئی ہے جس سے محبت کی جاسکتی ہے، مگر ساتھ کچھ اور باتوں کا جاننا لازمی ہے۔